صرف شدہ
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - جو خرچ ہو گیا ہو (رقم وغیرہ)۔ "جو رقم صرف شدہ ہو . حسابات میں درج کرنے کے لیے . تاخیر نہ کرنی چاہیے۔" ( ١٨٩٦ء، ہدایات متعلقہ حسابات، ٣ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'صرف' کے بعد فارسی مصدر 'شدن' سے صیغہ حالیہ تمام 'شدہ' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩٦ء کو "ہدایات حسابات" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جو خرچ ہو گیا ہو (رقم وغیرہ)۔ "جو رقم صرف شدہ ہو . حسابات میں درج کرنے کے لیے . تاخیر نہ کرنی چاہیے۔" ( ١٨٩٦ء، ہدایات متعلقہ حسابات، ٣ )